تصویر کے کاپی رائٹ Safari Park Lahore

صوبہ پنجاب کے محکمہ وائلڈ لائف کا سفاری پارک بھی لاک ڈاون کی وجہ سے نقصاں کا شکار ہو چکا ہے۔ وائلڈ لائف پنجاب نے افریقی شیروں کے سات جوڑے فروخت کر دیے ہیں جبکہ مزید چھ جوڑوں کی فروخت کی بھی تیاری جاری ہے۔

سفاری پارک لاہور کے ایک اسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اظہر کے مطابق ان شیروں کی فروخت فی کس ڈیڑہ لاکھ روپے اور فی جوڑا تین لاکھ کے حساب سے ہوئی ہے اور ان کی عمریں ایک سے بارہ سال کے درمیاں تھیں۔

محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کے ڈائریکٹر محمد نعیم بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان شیروں کو فروخت کرنے کی مختلف وجوہات ہیں۔

نعیم بھٹی نے بتایا ’سفاری پارک کا موجودہ رقبہ 80 ایکٹر ہے۔ جس میں ہمارے پاس 49 شیر تھے۔ ان میں اکثریت افریقی شیروں کی ہے۔ جن کی بریڈنگ سفاری پارک ہی میں ہوئی تھی۔ یہ رقبہ اس تعداد کے لیے ناکافی تھا۔ جس وجہ سے یہ شیر اتنے آرام سے نہیں رہ رہے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

شیر اور چیتے کی افزائش نسل: شوق بھی، کاروبار بھی

شیر کا بچہ سمگل کرنے والا نوجوان گرفتار

جنوبی افریقہ میں شیروں کا سڑک پر آرام

’اس کے ساتھ ہمیں متحدہ عرب امارات سے چار شیروں اور ٹائیگرز کے تحفے ملے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کو ان افریقی شیروں کے ساتھ بریڈ کیا جائے۔ اب اگر اسی کنال میں جب تک ان کے لیے مزید جگہ نہیں بنائی جا سکتی، اس وقت تک متحدہ عرب امارات سے آنے والوں کے ساتھ ان کی بریڈنگ ممکن نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Safari Park Lahore Image caption وائلڈ لائف پنجاب نے افریقی شیروں کے سات جوڑے فروخت کر دیے ہیں جبکہ مزید چھ جوڑوں کی فروخت کی بھی تیاری جاری ہے

ان کا کہنا تھا کہ فروخت کیے جانے والے شیروں میں کچھ چھوٹے موٹے نقائص تھے۔

’کچھ کا سائز پورا نہیں تھا اور کچھ اور مسائل کا شکار تھے۔ دیکھنے میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت بھی نہیں لگتے تھے۔ اس لیے بھی بہتر سمجھا گیا کہ ان کو فروخت کردیا جائے۔‘

’اسی طرح سفاری پارک کی انتظامیہ کو ان کی خوراک کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی فنڈ بھی نہیں ملتا۔ یہ فنڈ سفاری پارک کی انتظامیہ خود پورا کرتی تھی۔ ان کی خوراک پر روزانہ تیس ہزار روپے خرچ ہوتا تھا مگر اب لاک ڈاون کی صورتحال میں جب عوام سفاری پارک نہیں آ رہے ہیں تو خرچ اس کو پورا کرنا مشکل ہو رہا تھا۔‘

نعیم بھٹی کا کہنا تھا کہ شیروں کی فروخت اور جگہ کی قلت کو کم کرنے کی تجاویز تو پہلے سے ہی تھیں اور جب فنڈز کی کمی کا مسئلہ بھی درپیش ہوا تو پھر ان کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے سفاری پارک کی انتظامیہ کو آئندہ چند ہفتوں تک اپنا بجٹ چلانے میں بھی مدد ملے گی۔

نعیم بھٹی نے بتایا کہ ان شیروں کو حکومت پنجاب سے رجسڑ شدہ پرائیوٹ بریڈنگ فارمز کو فروخت کیا گیا ہے۔

محمد نعیم بھٹی کے مطابق ان سات جوڑوں کے علاوہ مزید چھ جوڑوں کی بھی نشان دہی ہوئی ہے، جن کی فروخت کے لیے بھی مختلف بریڈنگ فارمز کو پیشکش کی گئی ہے۔

’مختلف دلچسپی رکھنے والوں کو ان جوڑوں کا معائنہ کروایا گیا ہے تاہم ابھی اس پر حتمی فیصلہ رہتا ہے۔‘