تصویر کے کاپی رائٹ Ajay Aggarwal/Hindustan Times via Getty Images Image caption دونوں بھائی اختلافات کے بعد الگ ہوگئے تھے

مجھے صبح سے ہی انل امبانی سے بہت ہمدردی ہو رہی ہے، کبھی ان کا شمار دنیا کے بڑے صنعتکاروں میں ہوتا تھا اور آج لگتا ہے کہ وہ ہماری ہی صف میں کھڑے ہیں۔

نہ ان کے پاس پانچ سو کروڑ روپے ہیں اور نہ میرے پاس!

امبانی خاندان کے بارے میں دیگر خبریں

کیا یہ انڈیا کی تاریخ کی سب سے مہنگی شادی ہے؟

انڈیا میں رفال جیٹ پر سیاسی طوفان کیوں؟

امبانی کی شادی میں امیتابھ اور عامر نے کھانا کیوں بانٹا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Thakur/Hindustan Times via Getty Images Image caption مکیش امبانی نے حال ہی میں اپنے بچوں کی شادیوں میں ریکارڈ خرچ کیا تھا

بس فرق یہ ہے کہ ان کے بڑے بھائی مکیش امبانی ان سے بہت محبت کرتے ہیں۔ ان کے والد دھیرو بھائی امبانی نے ریلائنس گروپ کو انڈیا کے سب سے بڑے صنعتی گھرانوں کی فہرست میں پہنچایا تھا، لیکن ان کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں میں اختلافات پیدا ہوئے اور وہ الگ ہوگئے۔ دونوں کے حصے میں اربوں ڈالر کے اثاثے آئے۔

کہانی لمبی ہے لیکن چھوٹے بھائی انل امبانی کا کاروبار زیادہ چلا نہیں جبکہ مکیش امبانی کے کنٹرول میں جو کمپنیاں تھیں وہ ترقی کرتی چلی گئیں۔ خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق فی الحال مکیش امبانی تقریباً 54 ارب ڈالر کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ کبھی انل امبانی کے اثاثے بھی 50 ارب ڈالر سے زیادہ تھے لیکن حالات زندگی کب ہمیشہ ایک سے رہتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ SUJIT JAISWAL/AFP/Getty Images Image caption انل امبانی کو سویڈن کی کمپنی ایریکسن کو تقریباً پانچ سو کروڑ روپے ادا کرنے تھے

انل امبانی کو سویڈن کی کمپنی ایریکسن کو تقریباً پانچ سو کروڑ روپے ادا کرنے تھے، جب کئی وعدوں کے بعد بھی انھوں نے یہ رقم ادا نھیں کی تو سپریم کورٹ نے انھیں چار ہفتے کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ یا تو پیسے دیجیے یا تین مہینے کے لیے جیل جائیے۔

منگل تک کی ڈیڈلائن تھی۔ لیکن ڈیڈلائن گزرنے سے پہلے ہی مکیش امبانی نے بڑا بھائی ہونے کا فرض ادا کر دیا۔ پھر چار پانچ سو کروڑ روپے کیا چیز ہیں۔

انل امبانی اور میری کہانی میں یکسانیت یہاں ختم ہوجاتی ہے۔ یہ رقم مجھے ادا کرنی ہوتی تو شاید مشورہ یہ ملتا کہ بھائی تین مہینے کی ہی تو بات ہے، ہو آؤ تو بہتر رہے گا، ایک دن کے تقریباً چھ کروڑ روپے بنتے ہیں، باہر رہ کر اگر اتنا کما سکتے تو اور بات تھی۔۔۔

انل امبانی نے ایک بیان جاری کر کے بڑے بھائی اور بھابھی نیتا امبانی کا شکریہ ادا کیا ہے۔

لیکن بڑے صنعتی گھرانوں کے انداز الگ ہی ہوتے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ نیتا امبانی نے کافی عرصہ پہلے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھوں نے اپنے دونوں بچوں کی پرورش بہت سادگی سے کی ہے۔ ان کے دونوں بچے اس وقت امریکہ میں پڑھتے تھے۔

نیتا امبانی کا کہنا تھا کہ جب بچے چھٹیوں میں انڈیا آتے ہیں تو وہ انھیں لینے کے لیے کبھی اپنا پرائیویٹ جیٹ نہیں بھیجتیں، وہ ریگولر پروازں سے گھر آتے ہیں!

اس وقت بھی میں نے سوچا تھا کہ بچوں کو لینے کے لیے پرائیویٹ جیٹ تو ہم نے بھی کبھی نہیں بھیجا تو اس کا مطلب یہ ہی ہوا کہ ہمارے بچوں کی پرورش بھی سادگی سے ہی ہو رہی ہے۔

حال ہی میں مکیش امبانی نے اپنے دونوں بچوں کی شادیاں کی ہیں۔ مہمانوں کی فہرست بہت لمبی تھی اس لیے بلوم برگ کے ہی مطابق مکیش امبانی کے بیٹی کی شادی کے لیے ادے پور کے پانچ فائیو سٹار ہوٹل بک کرائے گئے تھے اور شادی پر تقریباً 100 ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔

چونکہ مہمانوں کی فہرست میں کسی وجہ سے میرا نام شامل نھیں تھا اس لیے وثوق سے تو کہنا مشکل ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے مہنگی شادیوں میں سے ایک تھی۔

سادگی کے معیار بھی یکساں نہیں ہوتے!