’اپنی مرضی سے ماں بننے کا انتخاب کرنا پانا ہی اصل آزادی ہے۔ اگر آپ کے پاس بچہ پیدا کرنے کی آزادی ہے تو آپ کا ماں بننے کا تجربہ مختلف ہوتا ہے۔ آج کے دور میں خوتین اپنی مرضی سے ماں بننے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ وہ ایسا کر بھی رہی ہیں۔ وہ بھی بغیر کسی پچھتاوے کے۔‘

یہ کہنا ہے امریکہ کی فیمینسٹ مصنفہ بیٹی فرائڈن کا۔

ممبئی میں رہنے والی 45 سالہ فلمساز آشیما چھبر نے 43 برس کی عمر میں آئی وی ایف ٹیکنالوجی کی مدد سے بچہ پیدا کیا اور اس کے لیے انھیں ایک پیشہ ور ٹیم کی مدد لینی پڑی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس عمر میں بچہ پیدا کرنے کی یہ واجب قیمت ہے۔

آشیما نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نہیں چاہتی تھی کہ مزید کسی مرد کا انتظار کروں جو ایک دن آئے اور میری ماں بننے کی آرزو پوری کرے۔‘

یہ بھی پڑھیے

بچے کو جنم دینے کی تکلیف جس پر کوئی بات ہی نہیں کرتا

جب بچے کی پیدائش خوشی کی جگہ دُکھ دینے لگے

کیا سیکس کی لت کوئی بیماری ہے؟

ماں بننے کی خواہش

آشیما نے بتایا کہ ’آج کے دور میں بچوں کی پرورش کی مدد کرنے والے شخص کا انتخاب اپنے لیے ہم سفر کے انتخاب سے زیادہ اہم ہے۔‘

آشیما کے بچے کے دیکھ بھال کرنے گھر میں دو خواتین اور دوست ہی ان کے لیے خاندان کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آشیما کی ماں بھی حیدر آباد سے ان کے پاس آتی جاتی رہتی ہیں تاکہ بچے کی پرورش میں مدد کر سکیں۔

آشیما چھبر ایک فلم ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بچہ پیدا کرنا چاہتی تھیں لیکن اپنی پسند کا ساتھی نہ مل پانے کی وجہ سے وقت ان کے ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا تھا۔

جولائی 2015میں انڈین سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ ’جب کوئی سنگل مدر بچے کے برتھ سرٹیفیکیٹ کے لیے درخواست دیتی ہے تو اس پر اس بات کا دباؤ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ بچے کے والد کا نام واضح کرے۔

سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بچے کو اپنانے کے لیے والد میں خواہش کی کمی یا بچے کی فکر نہ کرنے والے باپ کا ہونا تو عام خاندانوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔

جب آشیما حاملہ تھیں تو ان کی مکان مالکن نے کہا کہ انھیں ان کے اس بہادر فیصلے پر فخر ہے۔

آشیما نے اپنے والدین کو اس بارے میں تب بتایا جب وہ پانچ ماہ حاملہ تھیں۔ ان کے والدین نے ان کے اس فیصلے کی مخالفت نہیں کی۔

آشیما نے بتایا کہ ماں بننے کی خواہش ہمیشہ سے ان کے دل میں تھی لیکن من پسند ساتھی نہ مل پانے کی وجہ سے وقت نکتا جا رہا تھا۔ اس لیے انہوں نے سنگل مدر بنے کا فیصلہ کیا۔

آئی وی ایف ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے انہوں نے سپرم ڈونر کی تلاش شروع کی۔ ان کا زور پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ افراد پر تھا۔

آشیما نے کہا کہ ’اس طریقہ کار میں آپ کو ذرا بھی علم نہیں ہوتا ہے کہ بچہ کیسا دکھے گا۔‘

آشیما کا بیٹا شیو اب دو سال کا ہے۔ اس کا رنگ گیہواں اور بڑی بڑی آنکھیں ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جب وہ سپرم ڈونر کے پروفائل کا انتخاب کر رہی تھیں تو انھیں ڈونرز کی تصاویر نہیں دکھائی گئیں لیکن ان کے بارے میں بنیادی معلومات ان کی پروفائل میں لکھی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ڈری، سہمی، ’ٹوٹی، پھوٹی‘ لڑکی کو ماں بن کر کیا ملا؟

ایک مثالی باپ کیسا ہوتا ہے

کیا آپ کے دوست آپ کی صحت کو نقصان پہنچا رہے ہیں؟

اکیلی ماں ہونے کا تجربہ

آشیما نے بتایا کہ ’جب آپ ایک جوڑے کے طور پر ساتھ ہوتے ہیں تو آپ کو اپنے بچے کے بارے میں بہت کچھ پہلے سے پتہ ہوتا ہے۔ لیکن میرا بیٹا مجھے ہر روز حیران کرتا ہے۔میرے ذہن میں اس بات کا کوئی تصور نہیں ہے کہ وہ بڑا ہو کر کیسا دکھے گا۔‘

آشیما کے لیے گذشتہ ایک برس بہت تسلی بخش ثابت ہوا۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ کسی بھی خاتون کے لیے اکیلے بچے کی پرورش کرنا کوئی آسان راستہ نہیں ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ انسان کو اپنی نیت پختہ رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ان کا خیال ہے کہ بچے کو بڑا کرنے کا تجربہ کسی سنگل ماں کے لیے بہت مختلف ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر جب وہ بیٹے کو پاسپورٹ بنوانے کے لیے لے گئیں تو ان سے کہا گیا کہ وہ فارم میں بھریں کہ انہوں نے بچے کو گود لیا ہے۔

فارم میں آئی وی ایف سے پیدا ہونے والے بچوں کے لیے کوئی خانہ نہیں ہے۔ آشیما نے اس بات پر زور دیا کہ بیٹے کے پاسپورٹ پر ماں کی جگہ ان کا ہی نام ہو کیوں کہ اسے پیدا کرنے والی وہ خود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آشیما کی زندگی بچے کی پیدائش کے بعد سے مکمل طور بدل گئی ہے۔ انھوں نے ایک ساتھ کئی کام کرنا سیکھ لیے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اکیلی ماں کو سماج کی جانب سے بھی ساتھ ملنا بہت ضروری ہے۔

انڈیا میں شہروں میں رہنے والی خواتین کو معاشی طور پر آزادی حاصل کر پانے کی وجہ سے ایسے مشکل فیصلے لینے کی ہمت مل رہی ہے جن کے ذریعہ وہ خود کو سماجی پابندیوں سے بھی آزاد کر رہی ہیں۔

انڈیا جیسے معاشرے میں عام طور پر گھروں میں مردوں کی مرضی چلتی ہے۔

سنہ 2012 میں جسٹس کے ایس پٹا سوامی نے کہا تھا کہ خواتین کے پاس بچے پیدا کرنے کا فیصلہ کرنے کا آئینی حق ہے۔

لیکن 2019میں لایا جانے والا سروگیسی بل یہ شرط رکھتا ہے کہ صرف قانونی طور پر شادی شدہ مرد اور عورت کے جوڑے ہی سروگیسی کی راہ چن سکتے ہیں۔

اس مجوزہ بل میں اکیلے رہنے والے افراد، طلاق یافتہ، ’لو ان‘ یعنی ساتھ رہنے والے بے شادی شدہ جوڑے، بیوہ خواتین یا وہ مرد جن کی بیوی انتقال کر چکی ہو اور ہم جنس افراد کو اس سے باہر رکھا گیا ہے۔

اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سروگیسی کا راستہ اختیار کرنے والے جوڑوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ پانچ برس یا اس سے زیادہ عرصے سے شادی شدہ ہیں اور وہ ’بچے پیدا کرنے میں ناکام‘ ہیں۔ تبھی انہیں سروگیسی کی مدد لینے کا حق ملے گا۔

ساتھی کی ضرورت

آشیما چھبر کا کہنا ہے کہ انھیں ایک ساتھی کی ضرورت ہے اور وہ شادی سے ہی پوری ہو سکتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ان کے لیے یہ بڑا سوال بن گیا کہ وہ شادی پہلے کریں یا پہلے بچہ پیدا کریں۔

جب انہوں نے اپنے معاشی چیلینجیز سے نجات حاصل کر لی تو انکے لیے یہ فیصلہ آسان ہو گیا۔

آشیمہ نے وہی کیا جو وہ ہمیشہ سے چاہتی تھیں، ماں بننا۔ انھوں نے بتایا کہ حاملہ ہونے کے بعد سے پیدائش سے پہلے کے آخری دنوں تک وہ خاموشی سے الٹیاں کرتی رہیں اور صحت سے جڑی متعدد مشکلات کا سامنا کرتی رہیں۔

اکیلاپن بھی محسوس ہوتا تھا، لیکن انہوں نے آہستہ آہستہ خود کو اس سفر کے لیے تیار کر لیا۔

اب ان کی زندگی پہلے سے بہت جدا ہے۔ وہ دیر رات تک گھر سے باہر نہیں رہتی ہیں۔ وہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہیں کہ دوسروں کے جذبات کو بہتر سمجھ سکیں۔

انھوں نے کہا ’دنیا میں ہر طرح کے خاندان ہیں۔ ہم بھی ایک چھوٹا سا خاندان ہیں۔ میری زندگی کے گزشتہ تیرہ ماہ بہت خوشنما رہے ہیں۔‘