تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے جنگلی جانوروں کی تجارت پر مستقل پابندی مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے کیونکہ وہاں اب بھی چینی ادویات، کپڑوں اور زیورات کے لیے ان کی تجارت کی اجازت ہے۔

اُن کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ پابندی میں یہ رعایت قانونی ضابطوں سے بچنے کا ایک طریقہ ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جنگلی جانوروں کا گوشت بیچنا پھر بھی ممکن ہو گا۔

یہ پابندی فروری میں اُس وقت عائد کی گئی جب ان شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا کہ چین کے علاقے ووہان میں گوشت کی ایک مارکیٹ میں فروخت ہونے والے جنگلی جانور کے گوشت سے کورونا وائرس کی وبا پھوٹی۔

خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پابندی میں رعایت کی وجہ سے بلیک مارکیٹ میں جانوروں کا گوشت فروخت ہوتا رہے گا۔

آخر کورونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟

کورونا وائرس انسانی جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

روایتی علاج کے طریقوں پر یقین

پینگولن اور تیندوے جیسے جانور جن کے تحفظ کے لیے ان کے شکار اور تجارت کی ممانعت ہے مگر چین میں لگنے والی پابندی کے باوجود ان کی تجارت کی اجازت ہو گی تاکہ ان کے جسم کے مختلف حصوں کا استعمال روایتی چینی علاج میں ہو سکے۔

چین میں جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے برڈنگ بیجنگ کے بانی ٹیری ٹاؤنزہینڈ کہتے ہیں کہ گو کہ جنگلی جانوروں سے بنی مصنوعات کے طبی فوائد سائنسی طریقوں سے ٽابت نہیں ہوئے ہیں مگر لوگوں کو اس طریقہ علاج پر غیر معمولی اعتقاد ہے۔

انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ میں ایک بہت پڑھے لکھے خاندان کو جانتا ہوں جن کے دو بچے ہیں، ایک کی اولاد نہیں ہو رہی تھی اور دوسرا جنگلی جانوروں کی حفاظت کا سرگرم کارکن تھا۔

گو کہ انھیں روایتی طریقہ علاج کے سائنس کی بنیاد پر شواہد موجود نہ ہونے کے بارے میں بخوبی علم تھا مگر پھر بھی جس بچے کےگھر اولاد نہیں ہو رہی تھی اُس نے اولاد حاصل کرنے کی خاطر پینگولن کے خول کا استعمال کیا کیونکہ وہ لوگ باقی طریقے آزما چکے تھے۔

روایتی طریقہ علاج کی ڈیمانڈ کی وجہ سے چین میں پینگولن ناپید ہو چکے ہیں اور دنیا میں سب سے زیادہ سمگل کیے جاتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پینگولن پر ایسے وائرس موجود ہوتے ہیں جو کووڈ 19 کی وجہ بننے والے وائرس سے مشابہت رکھتے ہیں۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ اس جانور کے موجودہ عالمگیر وبا سے تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images جنگلی حیات کو کھال کے لیے پالنا

چائنیز اکیڈمی آف انجینیئرنگ کی جانب سے سنہ 2017 میں کی گئی تحقیق کے اعدادوشمار کے مطابق چین میں جنگلی حیات کو پالنے کی صنعت کا 75 فیصد جانوروں کی ایسی کھال کے لیے ہے جس پر نرم بال موجود ہوں۔

جانوروں کو کھال کے لیے پالنے والی صنعت کے خلاف مہم چلانے والے ادارے ایکٹ ایشیا کے چیف ایگزیکیٹو اور شریک بانی پائی ایف سو کا کہنا ہے کہ سنہ 2018 میں 5 کروڑ جانور اپنی کھال کی وجہ سے مارے گئے۔

کھال کے لیے پالے جانے والے جانوروں میں راکون، نیولا اور لومڑی شامل ہیں اور اُن سے کھال حاصل کرنے کے بعد ان کا گوشت بیچا جاتا ہے۔

چین میں تعلیمی دنیا سے منسلک افراد اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پابندی کے باوجود قانونی ضابطوں سے بچنے کے طریقے موجود ہیں۔

چین میں سنگہوا یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جیانگ جن سونگ کہتے ہیں کہ جنگلی حیات کی بالوں والی کھال اس تجارت کا تین چوتھائی حصہ ہے، اس لیے اگر اس پر مکمل پابندی عائد نہ کی گئی تو جنگلی حیات کے اس کاروبار پر کوئی اٽر نہیں پڑے گا۔ وہ مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری طرف سے جنگلی حیات کو بچانے کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی۔

ای آئی اے کی جانب سے سنہ 2012 میں کی گئی چھان بین میں یہ بات سامنے آئی کہ جو کاروبار ٹائیگر کو اُن کی کھال کے لیے پال رہے تھے وہ غیر قانونی طور پر اُن کی ہڈیاں ادویات اور شراب بنانے کے لیے بیچ رہے تھے۔

نئی پابندیوں میں جانوروں کے جسم کے حصوں کو سجاوٹ کے لیے بننے والی مصنوعات میں استعمال کی رعایت ہے۔

پینگولن کے گوشت کی خرید و فروخت غیر قانونی ہے مگر اس کے ناخن سجاوٹ کے لیے اور خول ادویات کے لیے بیچے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹائیگر، ریچھ اور پائتھن سانپ کو بڑے پیمانے پر پالا جاتا ہے۔ چین میں مگرمچھ اور چھپکلی کی طرح کے جانور سالامندر اور ایسے دیگر بہت سے جانوروں کو ہزاروں کی تعداد میں پالا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP ریچھ کے پتے میں بننے والے مادے کے لیے اسے پالنا

جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کہتے ہیں کہ چین میں 30 ہزار کے قریب ریچھ پالے جا رہے ہیں۔ انھیں چھوٹے چھوٹے پنجروں میں رکھا جاتا ہے اور ان کے پتے سے ایک میٹل ٹیوب کے ذریعے مائع نکالا جاتا ہے جس سے انھیں سخت تکلیف اور انفیکشن ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایک ہی زخم سے بار بار ٹیوب گھسا کر پتے سے مائع نکالا جاتا ہے۔ نتیجتاً ریچھ انفیکشن اور دوسری طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔

جہاں چین میں نئی پابندی کے بعد بھی روایتی علاج کے لیے ریچھ کو اس کے پتے سے حاصل ہونے والے مادے کے لیے پالنے کی اجازت ہے، وہاں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکنان رپورٹ کر رہے ہیں کہ غیر قانونی تاجر ان کے گوشت اور جسم کے دیگر حصے کھانے کے لیے لوگوں کو فراہم کر رہے ہیں۔

ہلکے دم کیے گئے ریچھ کے پائے کا شمار چین کے کچھ علاقوں میں نفیس کھانوں میں ہوتا ہے۔

چائنیز اکیڈمی آف انجینیئرنگ کی تحقیق کے مطابق جنگلی حیات کی صنعت سے ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد کو نوکریاں ملی ہیں اور ان کے تحمینے کے مطابق اس کاروبار کا کُل حجم 70 ارب ڈالر کے قریب ہے۔

مگر رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے نتیجے میں چین میں شہری جنگلی حیات کھانے کے خلاف ہورہے ہیں۔

اس جائزے میں ایک لاکھ ایک ہزار سے زیادہ افراد نے اپنی رائے دی اور 97 فیصد نے کہا کہ وہ جنگلی حیات کی مصنوعات کے استعمال کے خلاف ہیں اور وہ حکومت کی جانب سے ان کی تجارت پر لگائی گئی پابندی کی تائید کرتے ہیں۔

پیکنگ یونیورسٹی اور سات مختلف اداروں کی جانب سے رائے عامہ کا یہ جائزہ چین کی ساری آبادی کی نمائندگی نہیں کرتا۔ یہ جائزہ آن لائن کیا گیا اور اس میں کٽرت سے نوجوانوں نے حصہ لیا۔ اس میں حصہ لینے والے ایک تھائی افراد کی عمر 19 سے 30 کے درمیان تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ٹیری ٹاؤنز ہینڈ کہتے ہیں کہ جائزے میں حصہ لینے والوں میں گنجان علاقوں میں بسنے والے ماحول دوست حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد زیادہ تھی جو عموماً باقی آبادی کے برعکس پابندی کے حامی ہو سکتے ہیں۔

نوجوان نسل کی کیا سوچ ہے؟

نوجوان افراد جنھوں نے بی بی سی سے بات کی انھوں نے جائزے کے نتائج سے اتفاق کیا۔

بیجنگ میں یونیورسٹی کے آخری تعلیمی سال کی ایک طالب علم جی جو اپنا پورا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھیں، کہتی ہیں کہ ہم واضح طور پر جنگلی حیات کی غیرقانونی مصنوعات کو مارکیٹ سے ہٹانے کی حمایت کرتے ہیں۔

اکیس برس کی اس طالب علم نے مزید یہ بھی کہا کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں جنگلی حیات کی مصنوعات نہیں کھاتے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے میرے کچھ دوستوں کے گھر والے انھیں شارک مچھلی، سانپ یا کچھوا کھانے کے لیے دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان میں ایسی غذائیت ہوتی ہے جو بہت فائدہ مند ہوتی ہے۔

جی کہتی ہیں کہ جب وہ سیکنڈری سکول میں تھیں تو خود بھی ایسے مینڈک کھایا کرتی تھیں جو اسی مقصد کے لیے پالے جاتے ہیں مگر پھر جب انھیں پتہ چلا کہ ان میں طفیلی کیڑے ہوتے ہیں تو میں نے انھیں کھانا چھوڑ دیا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ کورونا وائرس کی اس وبا کے بعد مزید نوجوان جنگلی جانوروں کا گوشت کھانے کی اس فرسودہ روایت کو چھوڑ دیں گے۔

کیا پابندی واقعی کام کرے گی؟

چین میں حکام نے سنہ 2003 میں سارس کی وبا پھیلنے کے بعد جنگلی جانوروں کی تجارت پر پابندی لگائی تھی مگر کچھ مہینوں بعد اس میں نرمی دے دی تھی۔ اس بار جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکنان کہتے ہیں کہ موجودہ اقدامات امید افزا ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد چین میں حکام کی جنگلی حیات کے تحفط کے بارے میں پالیسی پر نظر رکھنے والے آکسفورڈ یونیورسٹی میں جنگلی جانوروں کے محقق یوحان لی کہتے ہیں کہ کووڈ 19 کے بڑھنے کے بعد سے چین میں حکام نے 600 سے زائد ایسے کیسز کی تفتیش کی ہے جن میں جنگلی حیات سے منسلک جرائم ہوئے تھے اور امید ہے کہ قانون کے اطلاق پر زیادہ توجہ اب معمول بن جائے گی۔

مگر جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے قائم ادارے کہتے ہیں پابندیوں میں روایتی علاج ، بالوں والی کھال اور سجاوٹ اور زیوروں میں ان کے استعمال پر رعایت گوشت کی غیرقانونی تجارت کو فروغ دے گی۔

حکومت کی حمایت یافتہ چائنا کنزرویشن اینڈ گرین ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کے سیکرٹری جنرل ژھو جن فینگ کہتے ہیں کہ پابندی میں قانونی ضابطوں سے بچنے کے طریقے سنگین مسئلہ ہیں اور ہم ان پر غور کر رہے ہیں۔ وہ مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ جنگلی جانوروں کا گوشت کھانے کے علاوہ جنگلی حیات کا ہر طرح کا دوسرا استعمال بھی بند ہونا چاہیے۔

جنگلی جانوروں کے گوشت پر پابندی کے اعلان کے بعد سب کی نظریں اب چین کے جنگلی جانوروں کے تحفط کے بارے میں قانون پر ہیں جس میں عنقریب ترمیم ہونی ہے۔

ژھو جن فینگ کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ اگرقانون میں ترمیم میں قانونی ضابطوں سے بچنے کے طریقوں کا خاتمہ نہ کیا گیا تو یہ اس مسئلہ پر قابو پانے کے اس سنہرے موقع کو گنوانے کے مترادف ہو گا۔

جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک بڑی تنظیم دی انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر اس بات سے اتفاق کرتی ہے۔

ایشیا کے لیے اس ادارے کے ڈائریکٹر ابان مارکر کابراجی کہتے ہیں کہ چین کو ترمیم شدہ قانون کے اطلاق کو یقینی بنانے کے لیے موٽر لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے تاکہ جنگلی جانوروں کی غیرقانونی تجارت پس پردہ جاری نہ رہے۔