تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یورپ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک اٹلی میں اس وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 107 تک جا پہنچی ہے جس کے بعد اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 10 روز کے لیے ملک بھر میں تمام سکول اور یونیورسٹیاں بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اٹلی کے حکام کے مطابق تمام سکول اور یونیورسٹیاں 15 مارچ تک بند رہیں گی۔

اٹلی کے وزیرِ اعظم جیوزیپی کونٹے کا کہنا ہے کہ ملک کی صحت کی سہولیات اس وائرس سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس چین میں فضائی آلودگی میں کمی کا باعث؟

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

کورونا وائرس: انڈین ادویات کی کمی سے عالمی قلت کا خدشہ

آغاز میں اٹلی میں سامنے آنے والے تین ہزار کیسز میں سے اکثر ملک کے شمالی علاقوں میں تھے تاہم اب تک اٹلی کے 20 میں سے 19 ’ریجنز‘ میں کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

دنیا بھر میں اس وائرس کے باعث 3200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 90 ہزار سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔

متاثرہ افراد کی سب سے زیادہ تعداد چین میں ہے جہاں اس وائرس کی پہلی مرتبہ نشاندہی گذشتہ برس کے اواخر میں ہوئی تھی۔

عالمی ادارہ صحت نے اسے تا حال ایک ’عالمی وبا‘ قرار نہیں دیا لیکن بدھ کے روز جرمنی کے وزیرِ صحت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ایک عالمی وبا کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔

جرمنی کے وزیرِ صحت جینز سپان نے کہا کہ ’صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔۔۔ جو بات واضح ہے وہ یہ کہ ہم نے ابھی تک اس وبا کی انتہا نہیں دیکھی۔‘

81 ممالک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جن میں اٹلی، جنوبی کوریا اور چین سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ماہرین صحت اور اٹلی کی وزارتِ صحت سکول بند کرنے کے حق میں تھے اٹلی اس حوالے سے کیا کر رہا ہے؟

اٹلی کی وزیرِ تعلیم لوسیا ایزولینا کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ طلبا اپنی تعلیم جلد دوبارہ شروع کر سکیں گے۔

انھوں نے کہا کہ 'تمام طلبا کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا میری ذمہ داری ہے چاہے ایک فاصلے سے ہی کیوں نہ دی جائیں۔'

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ماہرین صحت اور اٹلی کی وزارتِ صحت سکول بند کرنے کے حق میں تھے۔ ماہرین صحت یہ بھی چاہتے ہیں کہ فٹبال میچ بند دروازوں کے پیچھے کھیلے جائیں۔ ابھی تک متعدد میچ ملتوی کیے جا چکے ہیں۔

بدھ کے روز اٹلی میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 28 سے 107 تک جا پہنچی ہے۔ سول پروٹیکشن ایجنسی نے بدھ کے روز بتایا کے زیادہ تر اموات میلان کےقریب واقع لمبارڈی اور شمال میں بولوگنا اور وینس کے قریب ہوئی ہیں۔

اس سے قبل میلان کے قریب 11 قصبوں کو قرنطینہ کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے تھے۔ ان قصبوں کی آبادی 50 ہزار کے لگ بھگ ہے لیکن ان اقدامات کے باوجود وائرس کے پھیلاؤ کو نہیں روکا جا سکا۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے حکومتی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اٹلی اب سینما گھروں اور تھیٹرز کو بند کرنے اور مختلف اجتماعات پر پابندی لگانے کے حوالے سے سوچ رہا ہے۔

اس ہدایت نامے کے مطابق اٹلی کے لوگوں کو گلے ملنے اور ہاتھ ملانے سے اجتناب کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption تقریباً تمام 36 مریض حال ہی میں متاثرہ ممالک سے ہو کر آئے تھے یا ایسے افراد سے سے ملے تھے جنھوں نے ایسے ممالک کا سفر کیا تھا۔ برطانیہ میں کیا ہو رہا ہے؟

برطانیہ میں کورونا وائرس کے کیسز میں ایک روز میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اب ان کی مجموعی تعداد 87 ہو چکی ہے۔

تقریباً تمام 36 مریض حال ہی میں متاثرہ ممالک سے ہو کر آئے تھے یا ایسے افراد سے سے ملے تھے جنھوں نے ایسے ممالک کا سفر کیا تھا۔

تاہم ابھی تک اس حوالے سے وضاحت نہیں ہو سکی کہ ان میں سے تین افراد کو یہ وائرس کیسے لگا ہے۔

کنگز کالج ہسپتال میں بھی دو مریضوں میں اس وائرس کی تشخیص کی جا چکی ہے۔ جنوبی لندن میں موجود اس ہسپتال میں ایک ضعیف مریض کے اہلِ خانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جن افراد میں اس مرض کی تشخیص ہوئی ہے ان میں سے ایک اپنے رشتہ دار کے کمرے میں مقیم تھے۔

جس کے بعد ہسپتال نے ان افراد کو کھوج بھی شروع کی ہے جنھوں نے ان مریضوں سے ملاقات کی ہو اور اس مخصوص وارڈ تک رسائی بھی محدود کر دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images کن ممالک میں سکول بند کیے گئے ہیں؟

چین، ہانگ کانگ، جاپان، عراق اور متحدہ ارب امارات نے یا تو ابھی سے سکول بند کر دیے ہیں یا کرنے والے ہیں۔ ان اقدامات سے لاکھوں بچے متاثر ہو سکتے ہیں۔

فرانس نے بھی تقریباً 120 سکول ایسی جگہوں پر بند کر دیے ہیں جہاں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔

پرائمری اور سیکنڈری سکولز کو پیرس کے ایک شمالی علاقے میں بند کر دیا گیا ہے جہاں کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والے دو افراد مقیم تھے۔

پاکستان میں رواں ہفتے گلگت بلتستان حکومت نے تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کو وائرس سے بچاؤ اور حفاظتی اقدامات کے پیش نظر 7 مارچ تک بند کر دیا تھا جبکہ اس سے قبل سندھ میں بھی سکولوں کو بند کیا جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images ایران کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات

منگل کے روز ایران نے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اپنی جیلوں سے 54 ہزار سے زائد قیدیوں کو عارضی طور پر رہا کر دیا ہے ان جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی تھے۔

عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ قیدیوں کے ٹیسٹ کیے گئے اور جن کے ٹیسٹ نیگیٹیو تھے انہیں طویل رخصت دی گئی یعنی ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔

ایسے قیدیوں کو رہا نہیں کیا گیا جنہیں پانچ سال سے زیادہ عرصے کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

برطانوی رکن پارلیمان کے مطابق ایرانی نژاد برطانوی امدادی کارکن نازنین زغاری کو شاید جلدی رہا کر دیا جائے گا۔

ایران میں گزشتہ دو ہفتوں میں کورونا وائرس سے 77 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

کورونا وائرس کے سبب امریکہ میں سود کی شرح میں کمی

امریکی سینٹرل بینک نے کورونا وائرس کے معاشی اثرات کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر سود کی شرح میں کمی کردی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فیڈرل ریزرو نے اپنے بینچ مارک ریٹ کو 50 فیصد پوائنٹس سے کم کرتے ہوئے ایک اور ایک اعشاریہ پچیس فیصد کے درمیان کر دیا ہے۔

یہ ہنگامی اقدام منگل کو وزارتِ خزانہ کی جی سیون سربرارہ کانفرنس کے بعد کیے گئے۔

خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ اس وبا سے پیدا ہونے والی سست روی ممالک کو کساد بازاری کا نشانہ بنا سکتی ہے۔

ایک بیان میں فیڈرل ریزرو بنک نے کہا کہ امریکی معیشت مستحکم ہے، تاہم کورونا وائرس معاشی سرگرمیوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

آخری بار جب بینک نے کسی ہنگامی اجلاس میں سود کی شرح میں کٹوتی کی تھی تو وہ 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے دوران تھا۔

اس سے پہلے منگل کو آسٹریلیا اور ملائشیا نے بھی شرح سود میں کمی کا اعلان کیا۔

پاکستان میں کورونا وائرس

اس سے پہلے پاکستان میں منگل کو کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والی افراد کی کُل تعداد پانچ ہتائی تھی۔

منگل کی صبح وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پاکستان میں کورونا وائرس کے پانچویں کیس کی تصدیق کرتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا۔ پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی 45 سالہ خاتون میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ مریضہ کو ہسپتال میں آئسولیشن وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے پانچ افراد میں سے تین کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے جبکہ دو کا تعلق کراچی سے ہے۔

پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن سے ملحقہ افغانستان کی سرحد کو بھی بند کر دیا ہے۔

کورونا وائرس: تشخیص، تحقیق اور علاج

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

وائرس سے بچنے کے لیے ہاتھ کیسے دھوئیں؟

اس وائرس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

کورونا وائرس کیا ہے، کیسے پھیلتا ہے؟

کیا سائنسدان کورونا وائرس کے علاج کی ویکسین ایجاد کر پائیں گے؟

دنیا کو ’غیر یقینی خطرے‘ کا سامنا

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے منگل کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر دنیا کو ایک 'غیر یقینی خطرے' کا سامنا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم کہہ چکے ہیں کہ یہ وائرس'نیا' ہے لیکن درست اقدامات سے اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔

عالمی سطح پر اس وائرس سے اموات کی تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں زیادہ تر چینی باشندے شامل ہیں۔ تاہم گذشتہ روز کے اعداد و شمار کے مطابق چین کی نسبت دیگر ممالک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد میں نو گنا اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters Image caption Israel set up a dedicated polling station where people under quarantine could vote in Monday's general election

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے زور دیا ہے کہ 'ہم اس وائرس کو شکست دے سکتے ہیں۔' ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مرض کا خوف اصل مرض سے زیادہ خطرناک ہے۔

انھوں نے کہا کہ کووڈ 19 مرض کا عالمی سطح پر پھیلاؤ 'یک طرفہ عمل' نہیں تھا اور اگر دنیا کے ممالک فوری اور مؤثر طور پر اس کے عدم پھیلاؤ کے اقدامات اپنا تے تو اس سے لڑ جا سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اب عملی اقدامات کرنے کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے۔'

عالمی ادارہ صحت نے اور کیا کہا

ڈاکٹر ٹیڈروس کا بنیادی مشورہ یہ تھا کہ ہر ملک کو اپنی اپنی صورتحال کو دیکھنا ہوگا کیوں کہ وبا سے نمٹنے کے لیے یکطرفہ طریقہ کار نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'ہر ایک ملک کو اپنی اپنی حکمت عملی اپنانا ہوگی لیکن اس کی شروعات اس کے عدم پھیلاؤ کے اقدامات سے کی جانی چاہئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ نیا وائرس مختلف خصوصیات کے ساتھ سامنے آیا تھا' اور عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق یہ ابتک وبا کی صورت اختیار کر سکتا تھا لیکن اس کے عدم پھیلاؤ کے اقدامات نے بظاہر کام کیا اور اس کو وبائی صورت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ کیونکہ 62 متاثرہ ممالک میں سے 38 ممالک ایسے ہیں جہاں اس سےمتاثرہ افراد کی تعداد دس یا اس سے کم ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'تقریباً آٹھ ممالک میں دو ہفتوں سے نئے کیسز سامنے نہیں آئے ہیں اور وہ اس وباء پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ چین نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ بڑی تعداد میں اس سےمتاثر ہونے کے بعد بھی اس پر قابو پانا ممکن ہے۔

ڈاکٹر ٹیڈروس نہ کہا کہ 'عالمی ادارہ صحت اس کی نگرانی کرتا رہے گا کہ آیا اس وبا کو عالمی وبا قرار دیا جائے یا نہیں۔'

عالمی سطح پر صورتحال کیا ہے؟

ایران میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں کی تعداد 66 ہو گئی ہے۔

جنوبی کوریا میں بھی اس وائرس سے مزید دو ہلاکتوں کے ساتھ کل ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی ہے جبکہ ملک میں اس وائرس سے 4000 افراد متاثر ہیں۔

امریکہ میں صحت حکام کے مطابق کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوا ساز اداروں کو اس وائرس کے خلاف ویکسین تیاری میں تیزی لانے کے لیے کہا ہے۔

برطانیہ میں بھی 39 کیسز کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ وزیر اعظم بورس جانسن نے اس وائرس سے مزید افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

فرانس میں بھی گذشتہ روز 61 نئے کیسز کی تصدیق کی گئی اور ملک میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 191 تک پہنچ گئی۔ پرتگال، آئس لینڈ، اردن، تنظانیہ، ارمینیا، لاٹویا، سنیگال اور اندورا میں بھی پیر کو کورونا وائرس سے متاثرہ پہلے کیسز کی تصدیق کی گئی ہے۔

جبکہ قطر، ایکواڈور، لیگزمبرگ،چیک ری پبلک اور ائرلینڈ میں اتوار کے روز کورونا وائرس سے متاثرہ پہلے کیس کی تصدیق کی گئی۔

امراض کے قابو کے حوالے سے یورپی ادارے یورپین سنٹر فار ڈیزز کنٹرول نے اس بات کی تصدیق کی کہ یورپی یونین میں اس وائرس سے خطرے کی حد کو 'اعتدال پسند' سے بڑھا کر 'بلند' کر دی گئی ہے۔

کورونا وائرس کووڈ-19 کتنا مہلک ہے؟

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یہ وائرس خاص طور پر 60 سال سے زیادہ عمر والوں کو اور ان افراد کو زیادہ متاثر کرتا ہے جو پہلے ہی بیمار ہیں۔ چین میں 44000 سے زیادہ واقعات کے پہلے بتجزیے میں درمیانی عمر کے مقابلے میں انتہائی عمر رسیدہ افراد میں اموات کی شرح 10 گنا زیادہ تھی۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریضوں میں اس بیماری کی صرف ہلکی علامات ہوتی ہیں اور اموات کی شرح دو فیصد سے پانچ فیصد کے درمیان ہوتی ہے۔