تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آئندہ ماہ کی 29 تاریخ کو عمر اکمل تیس برس کے ہو جائیں گے۔ انٹرنیشنل کرکٹرز جب اس عمر کو پہنچتے ہیں تو اپنے کرئیر کے اہم ترین مرحلے میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں۔ سینئیر اور تجربہ کار کھلاڑی کا رتبہ مل جاتا ہے، ڈریسنگ روم اور شائقین میں قدرو منزلت بڑھ جاتی ہے اور اگر ٹیم قیادت کے بحران کا شکار ہو تو وہ کپتانی کے لیے بھی موزوں امیدوار بن سکتے ہیں۔

مگر عمر اکمل جس دن تیس برس کے ہوں گے، وہ غالباً اپنے کرئیر کے اختتامی مراحل گزار چکے ہوں گے۔ اگر پی سی بی انضباطی کمیٹی کے سربراہ جسٹس فضلِ میران چوہان کوئی خصوصی رعایت دے کر سزا میں تخفیف نہ کریں تو عمر اکمل کی کم از کم متوقع سزا دو برس ہو سکتی ہے۔ جبکہ پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے انھیں کوڈ کی جس شق کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا ہے، اس کی زیادہ سے زیادہ سزا تاحیات پابندی ہے۔

دیگر کالم پڑھیے

’نئی‘ ٹیم میں عمر اکمل، احمد شہزاد کا کیا کام؟

کورونا کہیں کرکٹ کو بھی غریب نہ کر جائے

اُس دن عاقب جاوید کس کے لیے کھیلیں گے؟

’بھلا ہوا نسیم شاہ ورلڈ کپ کھیلنے نہیں گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دنیا بھر میں کرکٹرز مختلف انواع و اقسام کی پابندیاں بھگت کر بھی واپس آئے ہیں اور کرئیر کو پھر اسی نکتے سے جوڑا بھی ہے جہاں یہ سلسلے ٹوٹے تھے۔ مارلن سیموئلز اس کی بہترین مثال ہیں جو فکسنگ پر دو سالہ پابندی کاٹ کر لوٹے اور پھر دو آئی سی سی فائنلز کے مین آف دی میچ بھی ٹھہرے۔

حالیہ وقتوں میں ڈیوڈ وارنر اور سٹیون سمتھ بھی اپنی پابندیاں کاٹ کر واپس آئے اور یکے بعد دیگرے مختلف اہم ترین مراحل پہ اپنی ٹیم کے لئے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے۔ عمر اکمل کے لئے مگر ایسے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔

خاکم بدہن اگر ان پہ تاحیات پابندی لگ گئی تو پھر تو سارے مباحثے ہی ختم ہو جائیں گے۔ مگر ہم مثبت پسندی بجا لاتے ہوئے اگر دو سال کی پابندی بھی ذہن میں رکھیں تو کم ہی امید نظر آتی ہے کہ پابندی کے اس پار سے عمر اکمل بالکل فٹ اور اچھی فارم لیے واپس آ سکیں گے۔

پی سی بی کی جانب سے رعایت کی توقع میں عمر اکمل نے خود پہ لگائے گئے الزامات کو قبول کر لیا ہے۔ یہ دونوں الزامات بظاہر دو الگ الگ غیر متعلقہ واقعات سے جڑے ہیں مگر ان دونوں واقعات کے تانے بانے کھیل میں کرپشن سے جا کر ملتے ہیں۔

اگرچہ فی الوقت پی سی بی نے معاملے پہ تبصرہ کرنے سے معذرت کر رکھی ہے مگر ہمارے ذرائع کے مطابق عمر اکمل کسی کرپٹ سرگرمی میں ملوث نہیں ہوئے۔ غلطی ان سے یہ ہوئی کہ جس شخص نے ان سے فکسنگ کے لیے رابطہ کیا تھا، وہ اس کا نام پی سی بی کو بتانا بھول گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایسا انھوں نے قصداً کیا یا سہواً، یہ تو ہم کبھی نہیں جان سکتے، اس بابت انہی کی زبان پہ بھروسہ کرنا ہو گا مگر نہ بتا کر انھوں نے کرکٹ کا بہت بڑا نقصان یہ کیا کہ اس مجرم عنصر کو کھلے بندوں چھوڑ دیا کہ وہ چاہے تو کسی اور سے رابطہ کر سکے اور کھیل کی روح کو مجروح کر سکے۔

اب جو سزا سنائی جائے گی، وہ اسی غلطی کی ملے گی کہ بھلے کچھ نہیں کیا مگر مجرم کی شناخت ظاہر کیوں نہیں کی۔ اور اگر ڈسپلنری کمیٹی کیس کو دیکھتے ہوئے ماضی کا ٹریک ریکارڈ بھی سامنے رکھ بیٹھی تو ڈسپلن کے حوالے سے عمر اکمل کی ہسٹری پوری الف لیلوی داستان ہے۔

کرکٹ شائقین کے لیے یہ نہایت تکلیف دہ بات رہے گی اگر ان کے کرئیر کا اختتامی نوٹ یہ کیس ثابت ہوا۔ مجھ سمیت بہتیروں نے ماضی میں یقیناً کبھی نہ کبھی عمر اکمل سے توقعات باندھی ہوں گی اور اب ان کے پاس بھی اس تاسف کے سوا کچھ نہیں بچے گا کہ جاوید میانداد جیسا سمارٹ بلے باز پاکستان کے لیے دو سو میچ بھی نہ کھیل پایا۔