تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption بلیو وہیل دنیا کا سب سے بڑا جانور ہے جس کی یومیہ خوارک تقریبا چار ٹن ہے

عام زندگی میں جن لوگوں کی خوراک زیادہ ہوتی ہے، ان کا مذاق اڑتے ہوئے انھیں پیٹو کہا جاتا ہے۔ کئی لوگ تو کھانا دیکھتے ہی اُس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ غذا کھانے والا جاندار کون سا ہے؟ جی ہاں وہ ہے 'بلیو وہیل۔'

جانداروں میں سب سے زیادہ خوراک بلیو وہیل کی ہوتی ہے۔ اس کی یومیہ خوارک تقریباً چار ٹن ہے۔

وہیل کی یہ نسل روزانہ کرل نامی چار کروڑ سمندری حیاتیات کو اپنی غذا بناتا ہے۔ اتنی غذا کسی اور جاندار کی نہیں ہوتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ DENIS-HUOT/NATUREPL.COM Image caption  ہاتھی روزانہ تقریبا 18 گھنٹے کھانے اور اپنے چارے کی تلاش میں رہتے ہیں

لیکن صرف وہیل ہی نہیں جو زیادہ خوراک کھاتی ہے بلکہ افریقی نسل کے ہاتھیوں کی خوراک بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

جنوبی افریقہ میں ہاتھیوں کے ماہر نارمن اوین سمتھ کہتے ہیں کہ افریقی ہاتھی روزانہ اپنے وزن کے ایک فیصد کے برابر غذا کھاتے ہیں۔

ایک افریقی ہاتھی کا اوسطاً وزن چھ ہزار کلوگرام ہوتا ہے یعنی وہ روزانہ تقریباً 60 کلو گرام خشک چارہ کھاتے ہیں جبکہ دودھ دینے والی مادہ ہاتھی روزانہ اپنے وزن کا تقریبا ڈیڑھ فیصد چارہ کھاتی ہے۔

اگر اس چارے میں پانی کی مقدار بھی شامل کر لیں تو افریقی ہاتھی روزانہ تقریبا ڈھائی سو کلو چارہ کھا جاتے ہیں۔

ہاتھیوں کی بات کریں تو یہ روزانہ تقریبا 18 گھنٹے کھانے اور اپنے چارے کی تلاش میں صرف کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption چینی نسل کا بڑا پانڈا بھی ہر روز تقریبا 14 گھنٹے کھانے اور پینے میں صرف کرتا ہے

اسی طرح چینی نسل کا بڑا پانڈا بھی ہر روز تقریباً 14 گھنٹے کھانے اور پینے میں صرف کرتا ہے۔

پانڈا تقریباً ساڑھے بارہ کلو بانس کا چارہ استعمال کرتا ہے تب جا کر اس کی روزمرہ کی غذائی ضرورت پوری ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ VISUALS UNLIMITED/NATUREPL.COM Image caption امریکہ میں پایا جانے والا بھورا چمگادڑ ایک گھنٹے میں ایک ہزار مچھر گپ کر جاتا ہے

سبزی خور جانوروں کے مقابلے میں گوشت خور جانوروں کو کم کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

کچھ لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ امریکہ میں پایا جانے والا بھورا چمگادڑ ایک گھنٹے میں ایک ہزار مچھر کھا جاتا ہے۔

اگرچہ اس دعوے پر سائنسدانوں یقین نہیں ہے لیکن پھر بھی چمگادڑ کی اچھی خاصی غذا ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARTUR TABOR/NATUREPL.COM Image caption گھروں میں پائے جانے والی چھچھوندر کو بھی بہت غذا درکار ہوتی ہے

اسی طرح گھروں میں پائے جانے والی چھچھوندر کو بھی بہت غذا درکار ہوتی ہے۔

انھیں ہر دو گھنٹے میں بھوک لگتی ہے اور اس وقفے میں اسے کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ملنا چاہیے۔

چھچھوندر کو روزانہ اپنے وزن کے 80 سے 90 فیصد جتنی غذا چاہیے ہوتی ہے جبکہ چھوٹی چھچھوندریں تو ہر روز اپنے وزن سے بھی زیادہ کھانا کھاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MIKE POTTS/NATUREPL.COM Image caption دنیا کا سب سے چھوٹا پرندہ 'ہمنگ برڈ' بھی بہت زیادہ غذا کھانے والی ایک مخلوق ہے

دنیا کا سب سے چھوٹا پرندہ 'ہمنگ برڈ' بھی بہت زیادہ غذا کھانے والی ایک مخلوق ہے۔

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ پرندے ہر 15 منٹ میں پھلوں کا جوس چوستے ہیں۔

ہمنگ برڈ کی دنیا بھر میں 300 سے زائد نسلیں پائی جاتی ہیں۔

ان کا وزن ڈھائی سے 25 گرام تک ہو سکتا ہے لیکن آپ کو یہ جان کر اور حیرت ہوگی کہ چھوٹے ہمنگ برڈ بڑے سائز والے ہمنگ برڈ سے زیادہ کھانا کھاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BARRY MANSELL/NATUREPL.COM Image caption بہت سے کیڑے اور مکوڑے بھی ہیں جو اپنے وزن سے زیادہ غذا کھاتے ہیں

بہت سے ایسے کیڑے اور مکوڑے بھی ہیں جو اپنے وزن سے زیادہ غذا کھاتے ہیں۔

ان میں سے پالیفیمس نامی کیڑا زیادہ مشہور ہے۔ فصلوں کو تباہ کر دینے والی ٹڈی کی نسل بھی بہت زیادہ کھاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WILLEM KOLVOORT/NATUREPL.COM Image caption جونک بھی اپنے وزن سے سات گنا زیادہ خون پی سکتی ہے

اسی طرح جونک بھی اپنے وزن سے سات گنا زیادہ خون پی سکتی ہے۔

ایمیزون اور ایشیا میں پائی جانے والی ان جونکوں کو بے حساب خون چوستے ہوئے دیکھا گيا ہے۔ یہ ایک بار میں اتنا خون پی لیتی ہیں کہ ان کا وزن سات گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جونک کی نقل و حرکت بہت محدود ہوتی ہے۔ اس وجہ سے انھیں شکار کی آمد کا انتظار رہتا ہے، لہذا جب بھی موقع ملتا ہے، وہ کئی دنوں کے لیے خون چوس لیتی ہیں۔