تصویر کے کاپی رائٹ KARWAI TANG

برطانیہ میں بکنگھم پیلیس کا کہنا ہے کہ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن آئندہ شاہی خطابات استعمال نہیں کر سکیں گے جبکہ شاہی فرائض کی انجام دہی کے لیے ملنے والے عوامی فنڈز اب انھیں نہیں دیے جائیں گے۔

شہزادہ ہیری اور میگھن اب باضابطہ طور پر ملکہ برطانیہ کی نمائندگی بھی نہیں کر سکیں گے۔

ڈیوک اینڈ ڈچز آف سسیکس (شہزادہ ہیری اور میگھن) کا کہنا ہے کہ وہ فروگمور کاٹیج کی تزین و آرائش اور بحالی کے لیے ٹیکس دہندگان کی فنڈز سے اٹھنے والے 24 لاکھ پاؤنڈز کی رقم بھی واپس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، فروگمور مستقبل میں ان کا گھر رہے گا۔

بکنگھم پیلیس کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں کا اطلاق رواں برس موسم بہار سے ہو گا۔ یہ فیصلے اس وقت سامنے آئے جب شاہی جوڑے نے رواں ماہ یہ اعلان کیا کہ وہ ’سینیئر رائلز‘ کے عہدوں سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں اور اس کے بعد گذشتہ پیر کو اس شاہی جوڑے کے مستقبل کے کردار کے حوالے سے شاہی خاندان کے سینیئر اراکین میں بات چیت ہوئی۔

’شدید چھان بین‘

ملکہ برطانیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کئی ماہ کی بات چیت اور حالیہ گفتگو‘ کے بعد وہ (ملکہ) بہت ’خوش ہیں کہ ہم نے مل کر اپنے پوتے اور ان کے خاندان کے لیے ایک تعمیری اور معاون راستہ تلاش کر لیا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہیری، میگھن اور آرچی میرے خاندان کے محبوب رکن رہیں گے۔‘

’میں ان چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہوں جس کا سامنا انھوں نے گذشتہ دو برس کے دوران شدید چھان بین کے نتیجے میں کیا ہے، میں ان کی مزید آزادانہ زندگی گزارنے کی خواہش کی حمایت کرتی ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ملکہ، شہزادہ ہیری سے بالمشافہ ملاقات کریں گی

میگھن اور ہیری کینیڈا میں ہی کیوں رہنا چاہتے ہیں؟

برطانوی شاہی جوڑے کا اعلیٰ شاہی حیثیت سے دستبردار ہونے کا اعلان

’میں ملک بھر میں، دولت مشترکہ کے ممالک میں اور اس سے بھی آگے ان کے جذبے کے ساتھ کیے گئے کام پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ خاص طور پر جس طرح میگھن بہت جلدی اس (شاہی) خاندان کا حصہ بنیں ہیں اس پر مجھے فخر ہے۔‘

’میرے پورے خاندان کو امید ہے کہ آج ہونے والا معاہدہ ان کو اپنی آئندہ پرسکون اور خوشگوار زندگی کی ابتدا کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔‘

بکنگھم پیلیس کا کہنا ہے کہ شاہی جوڑا نے اس بات کو سمجھا کہ انھیں سرکاری فوجی تقرریوں سمیت شاہی فرائص سے دستبرداری اختیار کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ YUI MOK/PA WIRE

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اب وہ مستقبل میں شاہی فرائض کی انجام دہی کے لیے عوامی فنڈز حاصل نہیں کر سکیں گے۔‘

’چونکہ وہ اب باضابطہ طور پر ملکہ کی نمائندگی نہیں کریں گے، سسیکسیز (ہیری اور میگھن) نے واضح کیا ہے کہ وہ جو بھی کریں گے وہ ملکہ برطانیہ کی اقدار کے تسلسل میں ہو گا۔‘

’چونکہ (ہیری اور میگھن) شاہی خاندان کے فعال ممبران نہیں رہے ہیں اس لیے وہ شاہی خطابات کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔‘

بکنگھم پیلیس نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اس شاہی جوڑے کی سکیورٹی کے معاملات آئندہ کس نوعیت کے ہوں گے۔

بکنگھم پیلیس اور ملکہ برطانیہ کے یہ بیانات اس بات کا اظہار ہیں کہ اس حوالے سے ہونے والی گفت و شنید مکمل ہو چکی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز پر شاہی جوڑے نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ معاشی خودمختاری حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنی بقیہ زندگی برطانیہ اور شمالی امریکہ میں گزارنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقبل میں وہ اپنا ’نیا پراگریسیو کردار‘ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

گذشتہ برس شاہی جوڑے نے ان مشکلات کا تذکرہ کیا تھا جن کا سامنا انھیں حالیہ مہینوں میں شاہی خاندان کا رکن ہونے کی باعث میڈیا کی بہت زیادہ توجہ کی وجہ سے ہوا تھا۔

ڈیوک آف سسیکس نے اس اندیشے میں اظہار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ ’انھیں طاقتور قوتوں‘ کا شکار ہو جائیں گی جن کی وجہ سے ان کی والدہ کی موت واقع ہوئی تھی۔

تجزیہ

جانی ڈائمنڈ، شاہی نامہ نگار

جیسا کہ ملکہ نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ’میرے خاندان کے محبوب رکن رہیں گے۔‘

صرف اتنا ہی ہے کہ نہ شاہی القابات، نہ شاہی ذمہ داریاں، نہ فوجی تعیناتیاں، نہ دورے، نہ عوامی فنڈز اور وہ اپنا زیادہ تر وقت کینیڈا میں بیتائیں گے۔

اس سے زیادہ کی توقع کرنا اور سوچنا بھی مشکل ہے۔ ہیری اور میگھن شاہی خاندان کا اب بھی حصہ مگر مؤثر طور پر وہ اب مزید رائل نہیں ہیں۔

ابتدائی گفتگو زیادہ مخلوط زندگی کی تھی۔ ایک ایسی زندگی جس میں شاید ہیری اور میگھن کچھ شاہی فرائض انجام دیتے رہیں اور اپنا وقت برطانیہ اور کینیڈا کے درمیان یکساں طور پر تقسیم کرتے رہے ہیں۔

مگر تضادات اور مفادات کا ٹکراؤ بہت زیادہ تھا۔

مگر اب بھی بہت سی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

اور اس پورے معاملے پر ایک سال بعد نظر ثانی ہو گی۔

مگر ایک نئی زندگی ہیری اور میگھن کا انتظار کر رہی ہے، مشہور شخصیات مگر ایک مختلف قسم کا شاہی رتبہ۔

’وہ سوالات جن کے جواب نہیں ملے‘
تصویر کے کاپی رائٹ AFP/JUSTICE FOR GIRLS Image caption منگل کو میگھن نے وینکور میں ایک ایسے خیراتی ادارے کا دورہ کیا جو ایسی نوعمر لڑکیوں کی مدد کرتی ہے جو غربت کا شکار ہیں

بی بی سی کے شاہی نمائندے نکولس وچیل جاری ہونے والے بیانات سے چند سوالوں کے جواب نہیں ملے بشمول یہ مستقبل میں اس شاہی جوڑے کا برطانیہ اور کینیڈا میں ٹیکس اور امیگریشن سٹیٹس (رتبہ) کیا ہو گا۔

شاہی نمائندے کا کہنا ہے کہ شاہی حکام نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آیا میگھن اب بھی برطانوی شہریت حاصل کرنا چاہتی ہیں، (اور اگر وہ ایسا کرنا چاہتی ہیں) تو انھیں برطانیہ میں ایک مخصوص وقت کے لیے رہائش اختیار کرنا ہو گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں (اس صورتحال میں) وہ (ہیری اور میگھن) ایسا ہی محسوس کر رہے ہیں جیسا کہ دوسرے لوگ اگرچہ انھوں نے اپنا بنیادی مقصد، یعنی اپنے وقت کا کچھ حصہ شمالی امریکہ میں گزارنا، حاصل کر لیا ہے۔‘

دی سن کے سابقہ رائل ایڈیٹر اور ’پرنس ہیری: دی انسائیڈ سٹوری‘ نامی کتاب کے مصنف ڈنکین لارکومبئے کہتے ہیں کہ ’وہ (ہیری) اس قابل نہیں ہو سکیں گے کہ وہ اپنی عالمی شہرت کو خاتمہ کر سکیں۔ اب بھی انھیں ایک اہم کردار ادا کرنا ہو گا، اور یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے ہونے والی بات چیت توقع سے زیادہ لمبی چلی ہے۔‘

میگھن فی الوقت کینیڈا میں اپنے آٹھ ماہ کے بیٹے آرچی کے ساتھ ہیں۔ منگل کے روز میگھن نے وینکور میں ایک ایسے خیراتی ادارے کا دورہ کیا جو ایسی نوعمر لڑکیوں کی مدد کرتی ہے جو غربت کا شکار ہیں۔